حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ نجف سکردو میں شعبہ ثقافت و تربیت جامعۃ المصطفیٰ پاکستان کی جانب سے ہفتہ تربیت کی مناسبت سے ’’شہید رہبر کے افکار کی روشنی میں طلبہ کی جامع تربیت کے بنیادی اصول‘‘ کے عنوان سے ایک تربیتی نشست منعقد ہوئی۔

نشست کا آغاز تلاوت کلام اللہ مجید سے ہوا، جس کی سعادت برادر افضل ذاکری نے حاصل کی، جبکہ قبلہ شیخ سجاد حسین مفتی نے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔
شیخ سجاد حسین مفتی نے تربیت کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تربیت کسی چیز کو اچانک تبدیل کرنے کا نام نہیں بلکہ اسے بتدریج اس کے کمال اور مطلوبہ مقام تک پہنچانے کا عمل ہے۔ دینی طالب علم کی تربیت صرف کتابیں پڑھانے یا معلومات منتقل کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے فکر، کردار، اخلاق، روح، بصیرت، اجتماعی شعور اور عملی زندگی کی تعمیر بھی تربیت کا حصہ ہے۔
انہوں نے رہبر معظم کے افکار اور پیغامات کی روشنی میں حوزہ علمیہ کے تاریخی اور تربیتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینی مراکز ماضی میں صرف محدود دینی علوم تک مختص نہیں تھے بلکہ طلبہ اپنے زمانے کے ضروری علوم سے بھی آشنا ہوتے تھے۔ بعد میں مختلف سیاسی و استعماری نظاموں نے دینی علوم کو معاشرتی زندگی سے الگ کرنے کی کوشش کی، تاہم آیت اللہ عبدالکریم حائری یزدی نے قم میں حوزہ علمیہ کو دوبارہ منظم کرکے دینی تعلیم و تربیت کا مضبوط سلسلہ قائم کیا، جس سے بعد میں ایسے علماء اور مجاہدین تیار ہوئے جنہوں نے امام خمینیؒ کی قیادت میں اسلامی انقلاب کی جدوجہد میں بنیادی کردار ادا کیا۔

طلبہ کی جامع تربیت کے بنیادی اصول
نشست میں طلبہ کی جامع تربیت کے لیے دس بنیادی اصول بیان کیے گئے۔ مقرر کے مطابق للہیت و اخلاص تربیت کی پہلی بنیاد ہے اور طالب علم کی تعلیم، تحقیق، عبادت، خدمت اور جدوجہد کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ قرآن، سنت، عقل اور فطرت سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
دوسرا اصول عقل، فطرت اور شعور ہے۔ دینی تربیت ایسی ہونی چاہیے جو طالب علم کی عقل و فطرت کو بیدار کرے تاکہ وہ حق و باطل، صحیح و غلط اور مفید و نقصان دہ امور میں تمیز کرسکے۔
تیسرا اصول تحقیق و تخلیق ہے۔ طالب علم کی تعلیم محض رٹنے، نقل کرنے اور سنی سنائی باتیں دہرانے تک محدود نہ ہو بلکہ اسے مسائل کی حقیقت تک پہنچنے، دلائل کا جائزہ لینے، علمی نتائج اخذ کرنے اور نئی علمی کاوش پیش کرنے کی صلاحیت حاصل ہو۔
چوتھا اصول مسلسل ارتقا ہے۔ طالب علم کو علم، اخلاق، شخصیت اور صلاحیتوں میں مسلسل بہتری کی کوشش کرنی چاہیے اور ’’اب میں کافی سیکھ چکا ہوں‘‘ کے احساس سے بچنا چاہیے۔
پانچواں اصول خود انحصاری ہے۔ طالب علم کو اللہ پر توکل کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حتی الامکان اپنی ضروریات میں دوسروں پر غیر ضروری بوجھ نہ بننے اور معاشرے کے لیے مفید ثابت ہونے کی تربیت دی جانی چاہیے۔
چھٹا اصول جہد مسلسل اور استقامت ہے۔ علم، عبادت، اخلاق، خدمت اور دینی جدوجہد کسی خاص موقع تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی جاری رہنی چاہیے۔ مشکلات کے باوجود صبر و استقامت کے ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہے۔
ساتواں اصول رحمت، ایثار اور خدمت خلق ہے۔ طالب علم کو صرف اپنی ذات کے فائدے کا سوچنے کے بجائے دوسروں کی ضروریات اور مشکلات کا احساس کرنا اور محروم طبقات کی خدمت کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اہل بیتؑ کی سیرت اس حوالے سے بہترین نمونہ ہے۔
آٹھواں اصول صبر و استقامت کے ساتھ بصیرت ہے۔ طالب علم کو اپنے زمانے کے حالات، سیاسی و سماجی تبدیلیوں، دشمن کی سازشوں اور معاشرتی مسائل سے باخبر رہنا چاہیے تاکہ حالات کے مطابق درست فیصلے کرسکے۔
نواں اصول تبلیغ، شبہات کا جواب اور اجتماعی خدمت ہے۔ مقرر نے کہا کہ علم حاصل کرنے کے بعد اسے معاشرے تک مؤثر انداز میں پہنچانا بھی طالب علم کی ذمہ داری ہے۔ موجودہ دور میں دین، خدا، انبیاء، قرآن، اہل بیتؑ اور دینی نظام کے حوالے سے پیدا ہونے والے شبہات کے علمی اور منطقی جوابات کے لیے طلبہ کی باقاعدہ تربیت ضروری ہے۔ اسی طرح طالب علم کو معاشرے سے کٹ کر صرف کتابوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اجتماعی خدمت میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
دسواں اصول اجتہاد، مجاہدانہ روح، نظام سازی اور تمدن سازی ہے۔ بدلتے ہوئے زمانے میں مالیات، ٹیکنالوجی، سیاست، معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور جدید سماجی مسائل کے حل کے لیے گہری علمی بصیرت اور اجتہادی صلاحیت ضروری ہے۔ طالب علم کو ظلم و ناانصافی کے مقابلے کے لیے مجاہدانہ روح اور معاشرے و نظام کی اصلاح کا شعور بھی حاصل کرنا چاہیے۔
علمی تخصص کے ساتھ جامع شخصیت ضروری
نشست میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ طالب علم ایک مرحلے پر کسی مخصوص علم میں تخصص حاصل کرے، تاہم تخصص اسے معاشرے سے الگ نہ کرے۔ ایک کامیاب عالم وہ ہے جو اپنے تخصص میں مہارت کے ساتھ بنیادی دینی علوم، انسانی علوم، معاشرتی حالات اور عصر حاضر کے مسائل سے بھی واقف ہو۔
مقرر نے تزکیہ نفس اور کردار سازی کو بھی جامع تربیت کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالب علم کی شخصیت سے تکبر، حسد، خود پسندی اور دیگر اخلاقی برائیوں کو دور کرکے اخلاص، تقویٰ، تواضع، صبر، ایثار اور خدمت جیسی اسلامی صفات پیدا کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مستقبل بینی اور زمانہ شناسی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کا طالب علم مستقبل میں معاشرے کی مختلف ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے، اس لیے اس کی تربیت اس انداز سے ہونی چاہیے کہ وہ فکری، سیاسی، معاشی اور تہذیبی تبدیلیوں اور مسلمانوں کو درپیش چیلنجز کو سمجھتے ہوئے دین اسلام کے پیغام کو جدید دنیا میں مؤثر انداز سے پیش کرسکے۔
نشست کے اختتام پر کہا گیا کہ دینی طالب علم کی تربیت کا مقصد صرف چند کتابیں پڑھنے یا فقہی مسائل بیان کرنے والے فرد کی تیاری نہیں، بلکہ ایسے عالم دین کی تربیت ہے جو صاحب کردار، صاحب بصیرت، مؤثر مبلغ، شبہات کا علمی جواب دینے والا، زمان شناس، انسانیت کا خادم، صابر و ثابت قدم، مجاہدانہ روح کا حامل اور اسلامی تمدن کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل ہو۔

نشست کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ تعلیم اور تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ حوزہ علمیہ اور دینی مدارس میں ایسا جامع نظام تعلیم و تربیت ضروری ہے جس میں علم، تقویٰ، اخلاق، تزکیہ، تحقیق، بصیرت، تبلیغ، خدمت، اجتہاد، مجاہدت، نظام سازی اور تمدن سازی ایک مربوط نظام کا حصہ ہوں۔










آپ کا تبصرہ